نئی دہلی:23/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے آج کہا کہ جو لوگ قومی شہری رجسٹر این آر سی کے مسودے کا حصہ نہیں ہیں، وہ اپنے آپ ہی غیر ملکی نہیں ہو جائیں گے۔ ویسے لوگوں کو اپنا دعوی پیش کرنے اور اعتراض درج کرانے کے لئے ایک ماہ کا وقت ملے گا۔ اس کے علاوہ، ان کے لئے عدالتی راستے بھی کھلے ہوں گے۔ این سی آر آسام کے باشندوں کی فہرست ہے۔افسر نے بتایا کہ اسے 30 جولائی کو شائع کیا جانا ہے۔ فی الحال یہ صرف ایک ڈرافٹ ہے اور شائع ہونے کے بعد اس میں جن لوگوں کے نام شامل نہیں ہوں گے، انہیں اپنا دعوی پیش کرنے اور اعتراض درج کرانے کے لئے کافی موقع دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام دعووں اور اعتراضات کی مناسب پڑتال کی جائے گی۔ این سی آرحکام کو ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا، جس دوران تمام اعتراضات اور شکایات کی مناسب سماعت کے بعد پڑتال کی جائے گی۔ آخری این سی آر سے نام ہٹانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص خود بخود غیر ملکی اعلان کردہ ہو گیا ہے۔ آخری دستاویزات شائع ہونے کے بعد اگر کوئی مطمئن نہیں ہو تو وہ انصاف حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ ہی ریاست میں غیر ملکی شہری اتھارٹی کا رخ کر سکتا ہے۔آسام میں تقریبا 300 غیر ملکی شہری اتھارٹی ہیں۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل کہا تھا کہ گھبرا نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور تمام حقیقی ہندوستانیوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے کافی موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ این سی آر کو آسام معاہدے کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس پر 15 اگست 1985 کو دستخط کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی، سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے عدالت عظمیٰ اس مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ این سی آڑ کے مسودے کا حصہ 31 دسمبر اور ایک جنوری کی درمیانی رات پوسٹ کیا گیا ۔اس میں 3. 29 کروڑ درخواست دہندگان میں 1.9 کروڑ کے نام شامل کئے گئے تھے۔ اب 30 جولائی کو تمام 3. 29 کروڑ درخواست دہندگان کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔